یورپ سفرنامہ — پھر ہالینڈ کی طرف
پردیس میں جب کوئی اپنا مل جائے، تو پردیس بھی اپنا لگنے لگتا ہے
اب سفر اپنے آخری مرحلے کی طرف بڑھ رہا تھا۔ ہم پھر ہالینڈ جا رہے تھے، اور اس کی ایک اہم وجہ یہ تھی کہ ہمارا کچھ سامان اب بھی ہمارے دوست صابر جروار کے گھر پڑا تھا۔
اب سوچتی ہوں کہ صابر کی وہ صلاح ہمارے لیے کتنی فائدہ مند ثابت ہوئی تھی، جب اس نے شروع میں ہی کہا تھا کہ باقی یورپ گھومنے کے لیے اپنے ساتھ کم سامان لے جاؤ اور اضافی بیگ یہاں چھوڑ دو۔ اس وقت شاید وہ صرف ایک دوست کی عملی صلاح لگی تھی، لیکن جرمنی، بیلجیم، فرانس، لکسمبرگ اور سوئٹزرلینڈ میں ٹرینیں، بسیں، اسٹیشن، سیڑھیاں اور ہوٹل بدلتے ہوئے ہمیں پتا چلا کہ سفر میں ایک اضافی سوٹ کیس بھی کبھی کبھی ایک اضافی مصیبت بن جاتا ہے۔ اگر سارا سامان اپنے ساتھ لے کر نکلے ہوتے تو شاید یورپ کی خوبصورتی کے ساتھ ہمارے سفرنامے میں سوٹ کیسوں کی شکایتیں بھی دوگنی ہوتیں۔
Amsterdam کے Schiphol Airport پر جہاز سے اترے تو صابر کی پہلے سے دی ہوئی ہدایات یاد تھیں: ”ایئرپورٹ سے باہر نکل کر پریشان نہ ہونا، ریلوے اسٹیشن ایئرپورٹ سے ہی جڑا ہوا ہے۔ وہاں سے ٹرین لے لینا۔“
لیکن Schiphol ایئرپورٹ خود اتنا بڑا تھا کہ جہاز سے اترنے کے بعد چلتے چلتے محسوس ہوا کہ گویا ٹرین تک پہنچنے سے پہلے بھی کوئی چھوٹا سفر کرنا پڑے گا۔ مسلسل چھ ملک گھومنے کے بعد ہمارے پاس شروع کے دنوں جیسی توانائی بھی نہیں بچی تھی۔ اب ہر لمبا corridor دیکھ کر دل کہتا تھا، ”ابھی کتنا چلنا ہے؟“
آخرکار ریلوے اسٹیشن تک پہنچے تو میں ایک لمحے کے لیے رک کر اس نظام کو دیکھنے لگی۔ جہاز سے اترو اور اسی بڑے transport network سے ٹرین لے کر ملک کے دوسرے شہر کی طرف روانہ ہو جاؤ۔ سفر کے دوران ایسی چھوٹی سہولتوں نے مجھے بار بار سوچنے پر مجبور کیا کہ کسی ملک کی ترقی صرف بڑی عمارتوں میں نہیں، بلکہ اس بات میں بھی نظر آتی ہے کہ ایک عام آدمی کے لیے ایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچنا کتنا آسان بنایا گیا ہے۔
ہم نے ٹرین لی اور Amersfoort کی طرف روانہ ہوئے، جہاں صابر ہمارا انتظار کر رہا تھا۔ ٹرین سے اترنے کے بعد پھر بس لی۔ بس ہمیں صابر کے گھر سے لگ بھگ دس منٹ کی پیدل دوری پر اتار گئی۔ وہاں سے اپنے بیگ گھسیٹتے چلتے آخرکار گھر پہنچے۔
صابر نے پہلے ہی ہمیں گھر کی ایک اضافی چابی دے دی تھی۔ کہا کہ اگر میں آفس یا کسی meeting میں ہوں تو آپ باہر انتظار نہ کرنا، خود اندر چلے آنا۔
پردیس میں ایسی چھوٹی سی چابی بھی کبھی کبھی صرف دروازہ نہیں کھولتی؛ وہ آپ کے لیے اجنبی ملک میں اپنائیت کا احساس بھی کھول دیتی ہے۔
ہمارے اس یورپ والے سفر میں میں نے ابھی ایک بہت معمولی، لیکن لمبے سفر کے لیے اہم بات نہیں لکھی تھی — کپڑے آخر دھوتے کہاں تھے؟
چھ ملک گھومنے کے لیے کوئی شخص ساری الماری تو سوٹ کیس میں نہیں لے جا سکتا۔ کپڑے کم لے جاؤ تو کچھ دن بعد دھونے پڑتے ہیں، اور ہر شہر میں laundry کرانے سے خرچ بھی بڑھتا ہے۔ جب پہلی بار جرمنی سے ہالینڈ صابر کے پاس آئے تھے تو استعمال شدہ کپڑے وہیں دھو دیے تھے، اور اب واپس پہنچے تو پھر دونوں بیگوں میں دھونے کے لیے کپڑے جمع تھے۔
صابر کے گھر میں laundry کے لیے الگ جگہ تھی، اور وہاں washing اور drying کا ایسا نظام دیکھا کہ مجھے اپنے گھر والی automatic washing machine بھی اس وقت سادہ لگنے لگی! ایک مشین میں کپڑے دھل جائیں، دوسری میں سوکھ جائیں، اور پھر تقریباً پہننے کے لیے تیار۔ جگہ بھی اتنی بڑی تھی کہ میں نے دل میں سوچا، ”ہمارے ہاں پاکستان میں تو کبھی کبھی اتنی جگہ میں سارا bathroom بن جائے!“
سفرناموں میں ہم زیادہ تر پہاڑوں، دریاؤں، عمارتوں اور مشہور جگہوں کا ذکر کرتے ہیں، لیکن لمبے سفر کی اصل زندگی ان چھوٹی چیزوں سے بھی بنتی ہے—کہاں کپڑے دھوئے جائیں گے، سامان کہاں رکھا جائے گا، فون کیسے چارج ہوگا، اور تھکے جسم کو دو دن کے لیے گھر جیسی جگہ کہاں ملے گی۔ صابر کا ہالینڈ میں ہونا ہمارے لیے اسی لیے کسی نعمت سے کم نہیں تھا۔
سوئٹزرلینڈ میں تھے تو ایک دن میرے فون پر میری اسکول والی پرانی سہیلی تسلیم کا فون آیا۔
”گلشن، تو ہالینڈ میں ہے؟“
میں نے کہا، ”تھے، لیکن اس وقت سوئٹزرلینڈ میں ہیں۔ واپس پھر ہالینڈ آنا ہے۔“
تسلیم سے میری دوستی آج کی نہیں تھی؛ وہ زندگی کے اس دور کی تھی جب نہ ہمیں معلوم تھا کہ ایک دن وہ ہالینڈ میں ہوگی اور نہ مجھے معلوم تھا کہ میں یورپ کے سفر کے دوران اسے وہاں جا کر ملوں گی۔ ہم نے اسکول میں ساتھ پڑھا تھا — وہ کلاس کی مانیٹر تھی، میں ہیڈ گرل۔ تسلیم The Hague میں رہتی تھی اور ہم Amersfoort میں تھے۔ طے ہوا کہ ایک دن خاص اس کے لیے رکھیں گے۔
جب ملاقات کا دن آیا تو اب یورپ کا transport system ہمارے لیے پہلے دن جیسا معمہ نہیں رہا تھا۔ تسلیم نے راستہ بتا دیا — ٹرین کے بعد کون سی ٹرام لینی ہے اور کہاں اترنا ہے۔ چند ہفتے پہلے کوئی ایسا راستہ بتاتا تو شاید میں دس سوال پوچھتی؛ اب حالت یہ تھی کہ کوئی صرف address بھیجے، میں کہوں: ”ٹھیک ہے، پہنچ جائیں گے۔“
سفر کا ایک فائدہ یہ بھی ہے کہ دنیا کے نقشے کے ساتھ انسان کے اپنے اعتماد کا نقشہ بھی بڑا ہوتا جاتا ہے۔
آخرکار ہم The Hague پہنچے اور وہاں سے Scheveningen کی طرف گئے۔ سامنے سمندر، لمبا beach اور pier دیکھ کر مجھے کچھ جانا پہچانا محسوس ہوا۔ بعد میں پتا چلا کہ Hum Tum فلم میں رانی مکھرجی اور سیف علی خان کے منظر بھی Scheveningen کے pier پر فلم بند ہوئے تھے۔
لیکن اس دن میرے لیے فلمی جگہ سے زیادہ اہم وہ دوست تھی جو مجھے لگ بھگ آٹھ دس سال بعد مل رہی تھی۔
دور سے ایک دوسرے کو دیکھا اور سالوں کا فاصلہ گویا چند قدموں میں ختم ہو گیا۔
تسلیم اپنی فیملی کے ساتھ خاص ہم سے ملنے آئی تھی۔ کافی دیر ساتھ بیٹھے، پرانی باتیں نکل آئیں، اسکول کے دن یاد آئے، درمیان والے سال یاد آئے، کھانا کھایا۔ کچھ دوستیوں کی خاص بات یہ ہوتی ہے کہ آپ سالوں بعد ملیں، لیکن گفتگو وہیں سے شروع ہو جاتی ہے جہاں کبھی چھوڑی تھی۔
پردیس میں کسی اپنے شخص سے ملنے کا احساس بھی مختلف ہوتا ہے۔ وہی راستے، وہی لوگ اور وہی ملک ہوتا ہے، لیکن اچانک اجنبیت کم ہو جاتی ہے۔
پردیس میں اگر کوئی اپنا مل جائے تو کچھ گھڑیوں کے لیے پردیس بھی اپنا دیس لگنے لگتا ہے۔
شام ہونے لگی تو تسلیم اور اس کے شوہر سے اجازت لی۔ Amersfoort واپس جانا تھا، لیکن میں نے زاہد سے کہا کہ سیدھا گھر نہ چلیں، پہلے مرکزی اسٹیشن والا علاقہ تھوڑا دیکھیں۔ اب سفر کے دن بھی گنتی کے رہ گئے تھے، اس لیے دل کہتا تھا جو دیکھ سکتے ہیں، دیکھ لیں۔ کافی لی اور واپس ٹرین میں بیٹھ گئے۔
یہ واقعہ مجھے یاد نہیں کب کا ہے لیکن شیئر کرنے جیسا ہے۔.
ان آخری دنوں میں ہم transport card میں بھی تھوڑا تھوڑا balance ڈالتے تھے۔ سوچ تھی کہ اب گھر جانے میں تھوڑے دن ہیں، زیادہ رقم ڈال کر کیا کریں گے؟
لیکن ایک دن وہ بچت مہنگی پڑ سکتی تھی۔
ٹرین میں ticket checker آئی۔ میں نے اپنا card دکھایا۔ زاہد نے card آگے کیا تو وہ کام نہیں کیا۔
پھر کوشش کی۔
نہیں۔
پتا چلا کہ balance ختم۔
میں فوراً پریشان ہو گئی، کیونکہ ہمیں معلوم تھا کہ صحیح ticket کے بغیر سفر کرتے پکڑے جانے پر جرمانہ ہو سکتا ہے۔ Checker نے کچھ دیر ہم سے بات کی۔ شاید اسے اندازہ ہوا کہ معاملہ جان بوجھ کر بغیر ticket سفر کرنے کا نہیں، بلکہ card میں balance ختم ہونے کا ہے۔ اس نے زاہد کو سمجھایا کہ اگلے station پر اتر کر پہلے intercom کے ذریعے اپنی صورتحال بتائیں، gate کھلوائیں باہر جائیں، ticket یا balance کا مسئلہ حل کریں اور پھر واپس اندر آئیں۔
زاہد اگلے station پر اتر گیا۔
میں ٹرین والی طرف کھڑی دیکھتی رہی۔
اس نے intercom پر بات کی، دوسری طرف بیٹھے کسی شخص نے اس کی بات سنی اور gate کھل گیا۔ زاہد باہر چلا گیا۔
اب میرے ذہن میں نیا مسئلہ:
”باہر تو چلا گیا.. واپس gate نہ کھلا تو؟“
کچھ دیر بعد gate پھر کھلا اور زاہد واپس نظر آیا تو میں نے سکون کا سانس لیا۔
اس دن مجھے ایک بات پھر محسوس ہوئی۔ اچھا نظام وہ نہیں جس میں کبھی مسئلہ پیدا ہی نہ ہو؛ اچھا نظام وہ ہے جس میں مسئلہ پیدا ہو تو اس سے نکلنے کا راستہ بھی موجود ہو۔
ہم پھر ٹرین میں بیٹھے اور Amersfoort کی طرف روانہ ہو گئے۔
اب یورپ کا سفر اپنے آخری دنوں کی طرف بڑھ رہا تھا۔ سوٹ کیس پھر بھر رہے تھے، دھلے کپڑے واپس اپنی جگہ آ رہے تھے اور ذہن میں ایک ہی سوال آہستہ آہستہ بڑا ہو رہا تھا:
اتنے ملک، اتنے شہر، اتنے لوگ اور اتنی یادیں جمع کرنے کے بعد جب انسان واپس گھر جاتا ہے، تو کیا وہ وہی شخص ہوتا ہے جو سفر کے پہلے دن گھر سے نکلا تھا؟