05 ستمبر 2024 · سفری کہانیاں

یورپ سفرنامہ — آخری قسط

نیدرلینڈز

سفر ختم ہو گیا، مگر اندر کچھ بدل چکا تھا.. Amersfort سے واپسی، Istanbul layover، اور یورپ کے چھ ممالک کی یادیں۔

یورپ سفرنامہ — آخری قسط
سفر ختم ہوا، لیکن اندر کچھ بدل چکا تھا..
یورپ کے سفر کے آخری دن ہم Amersfort میں صابر کے پاس گزار رہے تھے۔ اب وہ پہلے دن والی بے چینی نہیں رہی تھی کہ کون سی ٹرین لینی ہے، کس پلیٹ فارم پر جانا ہے یا ٹکٹ کیسے لینی ہے۔ چند ہفتے پہلے جو چیزیں ہمارے لیے نئی تھیں، وہ اب روزمرہ زندگی کا حصہ بن چکی تھیں۔ شاید سفر کی خوبصورتی بھی یہی ہے کہ اجنبی راستے آہستہ آہستہ پہچان لگنے لگتے ہیں۔
گھر لوٹنے کے دن قریب آ رہے تھے، اس لیے اب گھومنے سے زیادہ چھوٹے چھوٹے باقی کام یاد آ رہے تھے۔ کچھ الیکٹرانکس کی چیزیں لینی تھیں، جن کے لیے Amersfort سے تھوڑا دور جانا پڑا۔ پھر ٹرین لی، دکانیں والے علاقے تک پہنچے اور اپنی ضرورت کی چیزیں لیں۔ اب ٹرین میں بیٹھتے ہوئے مجھے یہ احساس ہی نہیں ہوتا تھا کہ میں کسی دوسرے ملک کی پبلک ٹرانسپورٹ استعمال کر رہی ہوں۔ فون میں راستہ دیکھو، پلیٹ فارم ڈھونڈو، ٹرین میں بیٹھو اور منزل پر اتر جاؤ۔ شروع میں جس نظام کو حیرت سے دیکھا تھا، اب خود بھی اس کا حصہ بن چکے تھے۔
آخری دنوں میں سوٹ کیس دوبارہ کھولے گئے۔ دھلے کپڑے، سفر کے دوران لی گئی چھوٹی بڑی چیزیں اور یادگاریں سب ترتیب سے رکھنے لگے۔ ہر چیز کے ساتھ کوئی نہ کوئی شہر جڑا ہوا تھا۔ کسی چیز سے جرمنی یاد آئے، کسی سے بیلجیم، کسی سے پیرس، تو کسی کو ہاتھ میں اٹھاتے ہی سوئٹزرلینڈ سامنے آ جائے۔ سفر کی شروعات میں سوٹ کیسوں میں صرف کپڑے تھے؛ واپسی کے وقت انہی سوٹ کیسوں میں کپڑوں کے ساتھ کہانیاں بھی بھر گئی تھیں۔
صابر کے گھر میں آخری رات بھی عجیب تھی۔ وہ گھر جو پہلی بار ہالینڈ پہنچنے پر ہمارے لیے ایک دوست کا گھر تھا، اب یورپ کے اس لمبے سفر میں گویا ہمارا عارضی گھر بن چکا تھا۔ یہاں سے سامان چھوڑ کر دوسرے ملکوں کی طرف نکلے، پھر واپس آئے، کپڑے دھوئے، آرام کیا اور اب یہیں سے گھر لوٹنا تھا۔ صابر کی وہ ایک صلاح کہ ”سارا سامان اپنے ساتھ نہ لے جاؤ“ ہمیں کئی شہروں میں بڑی تکلیف سے بچا گئی تھی۔ کچھ لوگ سفر میں آپ کے ساتھ نہیں چلتے، لیکن ان کی ایک اچھی صلاح بھی آپ کے آدھے سفر کو آسان کر دیتی ہے۔
آخرکار روانگی کا دن آ گیا۔
اب نہ کسی نئے ملک کی طرف جانے کا پروگرام تھا، نہ کسی نئے ہوٹل کی booking۔ اس بار منزل گھر تھی۔
ایئرپورٹ پہنچ کر check-in اور دیگر ضروری کارروائیاں مکمل کرنے لگے۔ وہاں ہمیں زیورخ میں cancel شدہ فلائٹ والا معاملہ بھی یاد آیا۔ اس وقت ہمیں بتایا گیا تھا کہ اپنے خرچ پر ہوٹل لو اور پھر رقم واپس ملنے کے لیے مطلوبہ فارم اور دستاویز جمع کراؤ۔ ہم نے بھی دیے گئے طریقے کے مطابق کاغذات بھرے اور جو ثبوت درکار تھے وہ دیے۔
لیکن سفر ختم ہو گیا، سال گزر گئے اور وہ رقم پھر ہمارے پاس نہیں پہنچی۔
شاید ہر سفر میں کچھ چیزیں ایسی بھی ہو جاتی ہیں جن کا انجام آپ کی منصوبہ بندی کے مطابق نہیں ہوتا۔ کبھی ٹرین رہ جاتی ہے، کبھی موسم راستہ بدل دیتا ہے، کبھی پہلے سے لی گئی ticket کام آ جاتی ہے اور کبھی reimbursement کا انتظار، انتظار ہی رہ جاتا ہے۔ سفر آپ کو آہستہ آہستہ سکھاتا ہے کہ ہر چیز پر آپ کا اختیار نہیں ہے۔
ہماری واپسی کا سفر ترکی کے راستے سے تھا اور جب Istanbul Airport پہنچے تو پھر ایک مختلف دنیا سامنے تھی۔ ایئرپورٹ اتنا بڑا کہ خود ہی کسی شہر جیسا محسوس ہو۔ چلتے چلتے میری نظر چھوٹی چھوٹی، الگ الگ آرام کرنے والی کیبنوں پر پڑی۔ پہلے مجھے وہ چھوٹے کمرے لگے، پھر پتا چلا کہ وہ مسافروں کے لیے iGA Sleepod ہیں — خاص طور پر ان لوگوں کے لیے جن کی اگلی پرواز کئی گھنٹوں بعد ہو اور جو ایئرپورٹ چھوڑے بغیر کچھ وقت آرام کرنا چاہیں۔ وہ بین الاقوامی departures کے airside حصے میں Gates D کی طرف جانے والی lifts کے قریب موجود ہیں اور 24 گھنٹے استعمال کیے جا سکتے ہیں۔ آج ان کی قیمتیں وقت کے مطابق بدلتی ہیں اور تقریباً €17.50 سے €30 فی گھنٹہ تک ہیں؛ کمبل اور تکیہ الگ comfort kit کے طور پر بھی مل سکتا ہے۔
ایئرپورٹ پر lounges اور nap/rest کی دیگر سہولتیں بھی ہیں۔ iGA International Lounge میں nap zone، shower، Wi-Fi، کھانا اور دیگر سہولتیں موجود ہیں، اس لیے لمبی layover والے مسافروں کے لیے صرف کرسی پر بیٹھ کر گھنٹے گننا ہی واحد راستہ نہیں ہے۔
ہماری layover اتنی لمبی نہیں تھی، اس لیے ہمیں Sleepod یا کمرہ لینے کی ضرورت نہیں پڑی۔ لیکن انہیں دیکھ کر میں نے سوچا کہ سفر میں ایسی معلومات کتنی کام کی ہیں۔ جب آپ کئی گھنٹوں کی flight کے بعد تھکے ہوں اور آگے پھر لمبا انتظار ہو، تب ایئرپورٹ کے اندر ایک گھنٹے کی نیند بھی کسی luxury سے کم محسوس نہیں ہوگی۔
وہاں بیٹھے مجھے اپنے پورے سفر کے دن ایک ایک کر کے یاد آنے لگے۔
جرمنی میں Frankfurt سے Cologne کی پہلی ٹرین، پلیٹ فارم بدلتے وقت سامان اٹھا کر دوڑنا، گم شدہ gimbal، Cologne کی گلیاں، Phantasialand؛ پھر ہالینڈ میں صابر کی اپنائیت، Amsterdam کے نہریں اور پن چکیاں؛ بیلجیم کی گرمی، Mini-Europe اور Atomium؛ پیرس کی بارش اور Eiffel Tower، اور وہ بس جس سے زاہد اتر گیا اور میں اندر رہ گئی؛ لکسمبرگ کے خاموش راستے اور سامان کے ساتھ غلط اسٹاپ پر اترنا؛ پھر سوئٹزرلینڈ—لوزرن، ٹِٹلس، انٹرلاکن، رائن فال، زیورخ اور وہ ٹرینیں جن سے اترنے کو دل ہی نہیں چاہتا تھا۔
جب گھر سے نکلے تھے تو یہ سب صرف نقشے پر نام تھے۔
اب ہر نام کے ساتھ ایک چہرہ، ایک راستہ، ایک بات، کوئی ہنسی، کوئی پریشانی اور کوئی یاد جڑی ہوئی تھی۔
اس سفر نے مجھے ایک اور بات بھی سکھائی کہ اچھا سفر وہ نہیں جس میں کوئی غلطی نہ ہو۔ ہم سے بھی غلطیاں ہوئیں۔ کہیں وقت غلط اندازہ لگایا، کہیں ٹکٹ پہلے سے نہیں لی، کہیں غلط اسٹاپ پر اترے، کہیں سامان پریشان کیا، کہیں موسم سارا پروگرام بدل دیا۔ تھکے بھی بہت — لیکن شاید وہی واقعات ہیں جو آج سفرنامہ لکھتے ہوئے سب سے زیادہ یاد آتے ہیں۔ اگر ہر چیز بالکل منصوبہ بندی کے مطابق چلتی تو شاید ہمارے پاس تصاویر تو بہت ہوتیں، کہانیاں اتنی نہیں ہوتیں۔
اور ایک بات جو میں خاص طور پر ان لوگوں کے ساتھ شیئر کرنا چاہتی ہوں جو سفر کرنا چاہتے ہیں لیکن ہر بار سوچتے ہیں کہ ”کب موقع ملے گا؟“
ہر سفر کے لیے بڑی بجٹ، بہت زیادہ دن یا مکمل حالات ضروری نہیں ہیں۔ اپنی بساط کے مطابق شروعات کرو۔ پہلے سے تحقیق کرو، ٹکٹیں اور رہائش سوچ سمجھ کر لو، ہلکا سامان اٹھاؤ، مقامی ٹرانسپورٹ سمجھو، اور سب سے اہم — اپنے اندر نئی چیز دیکھنے اور سیکھنے کی جگہ رکھو۔ سفر صرف ملک گننے کا نام نہیں ہے۔ اگر دس ملک دیکھ کر بھی آپ نے ان کے لوگوں، زندگی اور ماحول کو محسوس نہ کیا تو شاید آپ صرف جگہیں بدلتے رہے۔ اور اگر ایک ہی شہر میں بیٹھ کر وہاں کے لوگوں کو دیکھا، ان کی روزمرہ سمجھی اور اپنے بارے میں کوئی نئی بات سیکھی، تو وہ بھی ایک مکمل سفر بن سکتا ہے۔
میں نے اس سفر میں یہ بھی سیکھا کہ تھکن پر رک جانے میں کوئی نقصان نہیں۔ اسی لیے ہم اٹلی نہیں گئے۔ اس وقت ایک اور ملک اپنی فہرست میں شامل کیا جا سکتا تھا، لیکن ہمارے پاس اسے محسوس کرنے کی توانائی نہیں تھی۔ اب مجھے خوشی ہے کہ اٹلی کو صرف ایک tick mark نہیں بنایا۔ کچھ جگہیں اگلے سفر کے لیے چھوڑنا بھی سفر کا حصہ ہے۔
یورپ کے اس سفر میں ہم نے چھ ملک دیکھے، لیکن جب واپس لوٹ رہی تھی تو مجھے ملکوں کی تعداد سے زیادہ وہ چھوٹے لمحے اہم لگے جو کسی itinerary پر لکھے ہی نہیں تھے: کسی اجنبی کا راستہ بتانا، کسی دوست کا گھر کی چابی ہاتھ میں دینا، ٹرین کی کھڑکی سے خاموشی سے باہر دیکھنا، کسی خوبصورت منظر کے سامنے کھڑے ہو کر اللہ کا شکر کرنا، اور کبھی کسی انجان شہر میں خود ہی اپنا راستہ ڈھونڈ کر منزل تک پہنچنا۔
شاید سفر انسان کو دنیا سے پہلے اپنے آپ سے متعارف کراتا ہے۔
جہاز کے انتظار میں بیٹھے میں نے سوچا کہ جب گھر پہنچوں گی تو وہی گلشن ہوں گی جو چند ہفتے پہلے گھر سے نکلی تھی — لیکن شاید مکمل طور پر وہی نہیں۔
کیونکہ کچھ سفر ختم ہونے کے بعد بھی ختم نہیں ہوتے۔
آپ گھر واپس آ جاتے ہیں، سوٹ کیس خالی کر دیتے ہیں، کپڑے الماری میں واپس چلے جاتے ہیں، تصاویر فون میں رہ جاتی ہیں، لیکن راستوں کا تھوڑا حصہ آپ کے اندر رہ جاتا ہے۔
یورپ کا یہ سفر بھی میرے لیے ایسے ہی ختم ہوا — جہاز منزل پر پہنچا، لیکن سفر میرے اندر اب بھی جاری ہے۔
ختم شد یورپ سفرنامہ

اس سفر کی تصاویر