26 اگست 2024 · سفری کہانیاں

یورپ سفرنامہ – قسط 3: سوئٹزرلینڈ

سوئٹزرلینڈ

لوزرن میں بند دروازہ، خود بخود داخلہ اور جھیل کنارے پہلی شام۔ زیورخ کے بعد لوسرن اور Lake Lucerne سے پہلا تعارف۔

یورپ سفرنامہ — سوئٹزرلینڈ
قسط 3: لوزرن میں بند دروازہ، خودکار داخلہ اور جھیل کنارے پہلی شام
زیورخ میں ایک رات گزارنے کے بعد دوسرے دن ہماری منزل تھی لوسرن۔ یہاں ہم نے تین دن کے لیے ہوٹل بک کیا تھا۔ سوچا کہ اب بار بار سامان اٹھانے سے جان چھوٹے گی، ایک جگہ آرام سے رہ کر لوزرن اور آس پاس کی جگہیں گھومیں گے۔
لیکن لوزرن پہنچتے ہی ہوٹل نے ہمارے لیے پہلا سوال تیار کر رکھا تھا:
”ہوٹل تو بک ہے.. لیکن ہوٹل ہے کہاں؟“
نقشے میں جگہ بالکل وہی دکھا رہی تھی جہاں ہم کھڑے تھے، لیکن سامنے کوئی واضح سائن یا داخلہ نظر نہیں آ رہا تھا جس سے سمجھ آئے کہ یہ ہمارا ہوٹل ہے۔
بیگ ساتھ، نیا شہر، اور پھر وہی نقشہ آگے پیچھے دیکھنا!
زاہد تھک کر بولا:
”یار، یہ کیا ہے؟ میں تو تھک گیا ہوں!“
میں نے کہا:
”آپ یہاں کھڑے رہو، میں دیکھتی ہوں۔“
سفر میں ہمارے پاس گویا کام تقسیم تھے—زاہد کا کام تھا کچھ دیر بعد کہنا کہ ”بس اب نہیں ہو رہا“، اور میرا کام تھا پھر کسی نہ کسی طرح راستہ ڈھونڈنا!
اتنے میں ایک رائڈر وہاں سے گزرتا نظر آیا۔ میں نے سوچا، یہ بھی چلا گیا تو پھر کسے تلاش کریں گے؟ فوراً اسے روک کر پوچھا:
“Can you please guide us?”
جس عمارت کی طرف اس نے اشارہ کیا، وہ تو بالکل ہمارے قریب ہی تھی!
ہم نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا۔
نقشہ غلط نہیں تھا.. ہماری آنکھیں غلط جگہ ڈھونڈ رہی تھیں!
ہوٹل مل گیا، لیکن دروازہ بند!
اب خوش ہو کر عمارت کے پاس پہنچے تو سامنے بند دروازہ۔
نہ استقبال پر کوئی شخص، نہ کوئی ملازم، نہ کوئی ایسا شخص جسے کہیں کہ ہمارے پاس تین دن کی بکنگ ہے، مہربانی کر کے اندر آنے دیں۔
ہمیں معلوم تھا کہ یہ خودکار داخلے والا ہوٹل ہے، لیکن شاید ذہن میں یہ تصور تھا کہ خودکار داخلے کا عمل اندر جا کر کرنا پڑے گا۔
یہاں تو پہلا امتحان ہی یہ تھا:
اندر جائیں کیسے؟
پھر بکنگ کی تفصیلات اور ای میلز دوبارہ دیکھیں اور ہوٹل سے رابطہ کیا۔ وہاں سے ہمیں عمارت کے بیرونی دروازے کے لیے داخلے کا خفیہ نمبر ملا۔
نمبر داخل کیا..
اور دروازہ کھل گیا۔
اس لمحے بند دروازہ کھلنے کی خوشی بھی کسی سیاحتی مقام پر پہنچنے سے کم نہیں تھی!
اندر استقبال کرنے والا شخص نہیں، مشین تھی
اندر پہنچے تو روایتی ہوٹل والا منظر ہی نہیں تھا۔
نہ کوئی کہنے والا ”Welcome“، نہ پاسپورٹ لینے کے لیے کوئی شخص۔
سامنے ایک خودکار داخلے والی مشین کھڑی تھی۔
ایسے ہوٹلوں میں عام طور پر بکنگ کی تفصیلات مشین پر داخل یا تصدیق کرنی پڑتی ہیں۔ ہم نے بھی اپنی بکنگ ڈھونڈی، نام اور مطلوبہ شناخت کی تفصیلات بھریں اور مشین کی ہدایات کے مطابق عمل مکمل کیا۔
پہلے زاہد نے اپنا عمل مکمل کیا تو اس کا کارڈ نکل آیا۔ پھر میری تفصیلات داخل کی گئیں اور میرا کارڈ بھی آ گیا۔ ساتھ ہی ہمیں کمرے کا نمبر بھی مل گیا۔
بس، اب سرکاری طور پر ہوٹل ہمارا اور کمرہ بھی ہمارا!
یہ تجربہ ہمارے لیے نیا تھا۔ پہلی بار محسوس ہوا کہ ہوٹل میں رہنے کے لیے ضروری نہیں کہ سامنے کوئی شخص بیٹھا ہو؛ ٹیکنالوجی خود ہی استقبال سے لے کر کمرے کی چابی تک سارا کام کر سکتی ہے۔
چھوٹی لفٹ اور حیرت انگیز خاموشی
کارڈ لے کر لفٹ کی طرف گئے۔
لفٹ دیکھی تو پھر ہنسی نکل آئی—اتنی چھوٹی کہ دو لوگوں کے ساتھ بیگ بھی اندر آئیں تو گویا لفٹ کو بھی سوچنا پڑے:
”کیا آپ سب کو واقعی ایک ہی چکر میں جانا ہے؟“
خیر، ہم اور بیگ کسی نہ کسی طرح اندر آئے اور اپنی منزل پر پہنچے۔
اوپر لمبا کوریڈور اور دونوں طرف کئی کمرے تھے، لیکن ماحول میں عجیب خاموشی۔
کمرے بک تھے، لوگ بھی ضرور رہتے ہوں گے، لیکن نہ کوئی شور، نہ بڑی آوازیں، نہ دروازوں کے سامنے رش۔
ایسا لگ رہا تھا گویا پورا ہوٹل سرگوشیوں میں چل رہا ہو۔
آخرکار اپنا کمرہ ڈھونڈ کر کارڈ لگایا..
اور بس! لوسرن میں تین دن کے لیے اپنی جگہ مل گئی۔
سامان رکھا، تھوڑا آرام کیا، تازہ دم ہوئے، لیکن اب کمرے میں بیٹھے رہنے کا سوال ہی نہیں پیدا ہو رہا تھا۔
باہر لوسرن ہمارا انتظار کر رہا تھا۔
اور پھر پہلی ملاقات Lake Lucerne
ہوٹل سے نکل کر شہر کی طرف گئے اور پھر جب Lake Lucerne کے کنارے پہنچے تو سفر کا سارا موڈ ہی بدل گیا۔
سامنے جھیل کا صاف پانی، دور پہاڑوں کی قطاریں، کنارے پر چلتے لوگ اور پانی پر چلتی کشتیاں اور چاروں طرف لوسرن کی خوبصورت پرانی عمارتیں۔
جھیل اور شہر گویا ایک دوسرے کے لیے ہی بنائے گئے ہوں۔
کنارے پر کوئی آرام سے بیٹھا تھا، کوئی چہل قدمی کر رہا تھا، کوئی تصاویر کھینچ رہا تھا، تو کوئی صرف سامنے پانی اور پہاڑوں کو دیکھ رہا تھا۔
اور میں؟
میرے لیے تو ایسی جگہ پر پہنچنے کا مطلب صاف تھا:
”زاہد، پہلے تصویر کھینچو!“
کبھی جھیل پس منظر میں، کبھی عمارتیں، کبھی پہاڑ اور درمیان درمیان میں موبائل نیچے کر کے صرف آنکھوں سے منظر دیکھنا۔
کیونکہ کچھ منظرون کے ساتھ ایک مسئلہ ہوتا ہے:
تصویر کتنی بھی اچھی نکلے، جو خوبصورتی آنکھ کے سامنے محسوس ہوتی ہے، وہ مکمل طور پر کیمرے میں نہیں آتی۔
Lake Lucerne کے کنارے کھڑے ہو کر مجھے پہلی بار صحیح معنوں میں وہ احساس ہوا کہ:
ہاں.. اب ہم واقعی سوئٹزرلینڈ میں ہیں۔
لیکن لوسرن تو ابھی شروع ہوا تھا۔
جھیل سے آگے اس شہر کی سب سے مشہور پہچانوں میں سے ایک ہمارا انتظار کر رہی تھی—پانی پر بنی وہ تاریخی لکڑی کی پل، جس کی تصاویر شاید لوسرن جانے سے پہلے ہی آپ نے کئی بار دیکھی ہوں گی۔
Kapellbrücke — Chapel Bridge.
اس پل، لوسرن کے پرانے شہر اور آنے والے دنوں کی ہماری اصل گھومنے کی کہانی.. اگلی قسط میں۔

اس سفر کی تصاویر