یورپ سفرنامہ - سوئٹزرلینڈ
سوئٹزرلینڈ - جب موسم نے بھی ہمیں ایک رات مزید روک لیا
مسلسل چھ ملک گھومنے کے بعد آخرکار وہ وقت بھی آ گیا جب نئے شہر کا نام سن کر دل میں خوشی سے پہلے تھکن محسوس ہونے لگی۔ سوٹ کیس کھولنا اور باندھنا، ہوٹلوں میں چیک اِن اور چیک آؤٹ، ریلوے اسٹیشن کے پلیٹ فارم، بسیں، ٹرامیں، نقشے اور روزانہ کئی کلومیٹر پیدل چلنا — سفر کی شروعات میں یہ سب چیزیں adventure کا حصہ لگتی ہیں، لیکن مسلسل سفر کے بعد جسم ایک دن اپنا حساب ضرور مانگتا ہے۔
سوئٹزرلینڈ میں ہمارا آخری دن تھا اور میری حالت یہ تھی کہ دل کہتا تھا، اب کوئی ہمیں سامان سمیت اٹھا کر سیدھا گھر پہنچا دے۔ زاہد کے پاس پھر بھی ایک نئی تجویز موجود تھی۔
”اٹلی بھی گھومتے چلیں، ویسے بھی راستے میں پڑتا ہے۔“
میں نے بغیر سوچے کہا، ”نہیں، اب بس۔“
اٹلی نہ جانے کا فیصلہ شاید ہمارے یورپ والے سفر کا پہلا ایسا فیصلہ تھا جو کسی ٹکٹ، بجٹ یا ویزا نے نہیں، بلکہ ہماری تھکن نے کیا تھا۔ اس دن مجھے احساس ہوا کہ کسی ملک میں صرف پہنچ جانا سفر نہیں کہا جا سکتا۔ کسی جگہ کو دیکھنے کے لیے آنکھوں میں تجسس، ذہن میں تازگی اور جسم میں چلنے کی طاقت بھی ہونی چاہیے۔ تھکے آدمی کو دنیا کا سب سے خوبصورت منظر بھی کبھی کبھی صرف ایک اور تصویر لگتا ہے۔
میں نے زاہد سے کہا، ”اٹلی کے لیے پھر آئیں گے۔ سوئٹزرلینڈ کے لیے بھی پھر آئیں گے۔“
کیونکہ سوئٹزرلینڈ چھوڑتے وقت مجھے محسوس ہوا کہ اس ملک کو ایک بار دیکھنا اس ملک کے ساتھ بھی ناانصافی ہے اور اپنے آپ کے ساتھ بھی۔ ہم نے لوزرن دیکھا تھا، ٹِٹلس کی برف اور سردی محسوس کی تھی، انٹرلاکن اور رائن فال تک پہنچے تھے، لیکن اب بھی نقشہ دیکھنے سے کئی جگہیں ہمیں پکار رہی تھیں۔ سو دل میں ایک چھوٹا وعدہ کر لیا: ان شاء اللہ، دوبارہ آؤں گی۔
لیکن سوئٹزرلینڈ نے ابھی ہمیں مکمل طور پر رخصت نہیں دی تھی۔
زیورخ سے ہالینڈ کے لیے ہماری فلائٹ تقریباً دوپہر کے قریب تھی، لیکن اس سے پہلے میری فہرست میں ایک آخری نام باقی تھا (Lindt Home of Chocolate)۔
زاہد کو فلائٹ کی فکر تھی۔ بولا، ”ایسا نہ ہو کہ چاکلیٹ دیکھتے دیکھتے جہاز چھوٹ جائے۔“
میں نے اسے سمجھایا کہ سامان تیار ہے، ہوٹل سے بھی وقت پر چیک آؤٹ کر لیں گے، صرف جانا، دیکھنا اور واپس آنا ہے۔ اس وقت مجھے اپنی منصوبہ بندی پر مکمل اعتماد تھا۔ سفر میں ایسے اعتماد بھی بڑے دلچسپ ہوتے ہیں؛ انسان سمجھتا ہے کہ اس نے پورے دن کو منٹوں میں تقسیم کر دیا ہے، جبکہ موسم اپنی الگ منصوبہ بنا بیٹھی ہوتی ہے۔
صبح ناشتہ کر کے، سامان مکمل تیار کر کے اور ہوٹل سے چیک آؤٹ کر کے ہم Kilchberg میں Lindt Home of Chocolate کی طرف روانہ ہوئے۔ وہاں پہنچے تو باہر ہی لوگوں کا رش تھا۔ خاندان، بچے، مختلف ملکوں کے سیاح — سب ایک ہی طرف جا رہے تھے اور ہم بھی ان کے پیچھے اندر چلے گئے۔
اندر داخل ہوتے ہی سامنے چاکلیٹ کا ایک بہت بڑا فاؤنٹین نظر آیا۔ تقریباً نو میٹر اونچا وہ فاؤنٹین اس جگہ کی پہچان بن چکا ہے۔ چاکلیٹ اوپر سے نیچے بہتی نظر آتی ہے اور اس کے گرد سیاحوں کا دائرہ لگا ہوتا ہے۔ کوئی selfie لے رہا تھا، کوئی خاندان کے ساتھ تصویر، تو کوئی اپنی باری کا انتظار کر رہا تھا۔ ہم نے بھی انتظار کیا اور جب جگہ ملی تو اپنی تصاویر کھینچیں۔
لیکن میری دلچسپی صرف فاؤنٹین میں نہیں تھی۔ سفر سے پہلے جگہوں کے بارے میں پڑھنا میری عادت تھی اور میں نے خاص طور پر پڑھا تھا کہ یہاں چاکلیٹ کی تاریخ، cocoa bean سے تیار چاکلیٹ تک کا سفر اور جدید پیداوار کے مختلف مراحل دیکھے جا سکتے ہیں۔ میوزیم کے دورے میں مختلف جگہوں پر چاکلیٹ چکھنے کا موقع بھی ملتا ہے۔ میں نے اپنے ذہن میں وہ سارا تجربہ پہلے ہی بنا لیا تھا۔
کاؤنٹر پر پہنچ کر دو ٹکٹیں مانگیں۔
”آج کی ٹکٹیں ختم ہو گئی ہیں۔“
پہلے تو میں نے سمجھا شاید اگلا time slot مل جائے گا۔ پوچھا، ”آج کسی اور وقت؟“
جواب پھر نہیں میں تھا۔
”کوئی اور صورت؟“
”کل۔“
میں نے زاہد کی طرف دیکھا۔ کل تک تو ہم سوئٹزرلینڈ چھوڑ چکے ہوتے۔
اس چھوٹے سے واقعے نے مجھے سفر کا ایک بڑا سبق دے دیا: جگہ کے بارے میں معلومات لینا اور اس کی ٹکٹ لینا دو الگ کام ہیں۔ مشہور مقامات پر خاص طور پر جب وقت مقرر داخلہ ہو تو ٹکٹ پہلے سے لینی چاہیے۔ آج بھی Lindt Home of Chocolate اپنے سیاحوں کو پہلے سے آن لائن ٹکٹ لینے کی صلاح دیتا ہے، کیونکہ مصروف دن میں ٹکٹیں ختم ہو سکتی ہیں۔ بالغوں کی موجودہ داخلہ CHF 17 ہے اور مکمل دورے کے لیے تقریباً ڈیڑھ گھنٹہ رکھنا بہتر سمجھا جاتا ہے۔ البتہ میوزیم کی ٹکٹ نہ ہو تب بھی بڑا چاکلیٹ فاؤنٹین، دکان اور کیفے دیکھے جا سکتے ہیں۔
سو جو نہیں ملا، اس کے افسوس میں جو مل رہا تھا اسے کھونا مناسب نہیں تھا۔ ہم نے وہاں گھوما، چاکلیٹوں سے بھری دکان دیکھی، کچھ چاکلیٹ smoothies اور desserts آزمائے۔ ہر طرف چاکلیٹ کی ایسی دنیا تھی جہاں بچوں سے زیادہ شاید بڑوں کے چہرے خوش نظر آ رہے تھے۔
لیکن ہماری نظر بار بار گھڑی کی طرف بھی جا رہی تھی۔
واپس ہوٹل پہنچے، تھوڑا تازہ دم ہوئے، سامان اٹھایا اور ہوٹل کی طرف سے بندوبست کیے گئے shuttle میں زیورخ ایئرپورٹ روانہ ہوئے۔ گاڑی جب ہمیں مرکزی داخلے پر اتاری تو ایک لمحے کے لیے رک کر چاروں طرف دیکھا۔ دنیا کے نقشے پر دیکھا ہوا ”Zürich“ اب میرے سامنے ایک ایئرپورٹ کا نام نہیں، بلکہ گزشتہ کئی دنوں کی یادوں کا آخری دروازہ تھا۔
اس دن موسم بھی عجیب تھا۔ چاکلیٹ والی جگہ جاتے وقت گرمی محسوس ہو رہی تھی، لیکن پھر بادل ایسے جمع ہوئے کہ بارش شروع ہوئی اور رکنے کا نام نہ لیا۔
ہماری boarding ہوئی اور جہاز میں جا کر اپنی سیٹوں پر بیٹھ گئے۔ میں نے سوچا، اب کچھ ہی دیر میں جہاز اڑے گا اور سوئٹزرلینڈ پیچھے رہ جائے گا۔
پندرہ منٹ گزرے۔ جہاز وہیں تھا۔
پھر اعلان ہوا کہ خراب موسم کی وجہ سے take-off میں تاخیر ہوگی۔
آدھا گھنٹہ گزرا۔ پھر ایک گھنٹہ۔ پھر دوسرا۔
مسافروں کے چہروں پر وہ بے چینی آنے لگی جو کسی بھی زبان کے ترجمہ کی محتاج نہیں۔ کوئی فون پر اپنے اگلے سفر کے حساب بدل رہا تھا، کوئی عملے سے سوال کر رہا تھا، تو کوئی خاموش بیٹھا باہر بارش دیکھ رہا تھا۔
آخرکار اعلان ہوا کہ خراب موسمی حالات کی وجہ سے آج فلائٹ نہیں اڑے گی۔
میں اور زاہد نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا۔
صبح میں کہہ رہی تھی کہ دل نہیں چاہتا سوئٹزرلینڈ چھوڑیں، اور اب سوئٹزرلینڈ گویا کہہ رہا تھا:
”ٹھیک ہے، آج نہ جاؤ۔“
لیکن ایسے ”ایک رات مزید“ رہنے میں وہ رومانیت کہاں تھی جو اپنی مرضی سے رہنے میں ہوتی ہے!
پھر جہاز سے اترنا، پھر سامان، پھر ایئرلائن کی ہدایات کا انتظار۔ مسافروں کو بتایا گیا کہ اگلی فلائٹ تک رہائش کا بندوبست خود کرنا پڑے گا اور ہوٹل کے خرچ کی واپسی کا طریقہ کار بتایا گیا۔ اس سارے عمل میں کافی وقت گزر گیا اور ہماری تھکن اب جسم سے زیادہ چہرے پر نظر آنے لگی تھی۔
اس افراتفری میں میں نے لوگوں کو بھی دیکھا۔ مختلف پاسپورٹ والے، مختلف زبانیں بولنے والے، ہر ایک کا اپنا مسئلہ۔ مجھے اس وقت محسوس ہوا کہ کچھ مغربی پاسپورٹ رکھنے والے مسافروں کے معاملات زیادہ آسانی سے آگے بڑھ رہے تھے، جبکہ دوسروں کو زیادہ وضاحتوں اور انتظار سے گزرنا پڑ رہا تھا۔ ممکن ہے اس کی وجہیں ویزا، آگے کے سفر یا داخلے کے مختلف قوانین سے جڑی ہوں؛ میرے پاس اس وقت اس کا پورا سبب معلوم کرنے کا ذریعہ نہیں تھا۔ لیکن ایک پاکستانی مسافر کی حیثیت سے وہ مشاہدہ ذہن میں ضرور رہ گیا کہ دنیا میں پاسپورٹ صرف سفر کا دستاویز نہیں؛ کبھی کبھی وہ آپ کے سفر کی آسانی کا درجہ بھی طے کرتا ہے۔
اب رات کے لیے ہوٹل ڈھونڈنا تھا۔ عین وقت پر ایئرپورٹ کے قریب کمرہ ملنا خود ایک نیا امتحان تھا۔ زیادہ تر ہوٹل بھرے تھے۔ آخرکار ایک کمرہ ملا، جس کے لیے تقریباً 200 سوئس فرانک دینے پڑے۔ اس وقت سستا یا مہنگا سوچنے کی سکت بھی نہیں بچی تھی۔ رات گزارنے کے لیے چھت چاہیے تھی، سو زاہد نے کمرہ بک کیا اور ہم سامان اٹھا کر ہوٹل پہنچے۔
صبح کی فلائٹ سات بجے تھی، اس لیے الارم چار بجے کا لگایا۔
جب الارم بجا تو مجھے واقعی ایسا محسوس ہوا گویا میں ابھی ابھی سوی تھی۔ دل کہے، ”نہ اٹھ۔“ جہاز کہے، ”اٹھنا پڑے گا۔“
آخرکار جسم کو دل کی مرضی کے خلاف بستر سے نکالنا پڑا۔
تیار ہو کر سامان اٹھایا۔ ہوٹل ایئرپورٹ سے اتنا قریب تھا کہ پانچ دس منٹ کا پیدل فاصلہ تھا۔ باہر پھر بارش تھی، لیکن گزشتہ دن والی تیز بارش نہیں، ہلکی ہلکی۔ صبح کی اندھیری، خاموش راستہ، ہاتھوں میں سوٹ کیس اور نیند سے بھری آنکھیں—کل کی سیاح والی چمک اب کسی میں نہیں تھی۔
جہاز میں جا کر بیٹھے تو اس بار ہماری کوئی بڑی خواہش نہیں تھی۔ صرف ایک دعا:
”یا اللہ، آج فلائٹ cancel نہ ہو۔“
تھوڑی دیر بعد جہاز میں آواز آئی:
“We are ready for take-off.”
میں نے بے اختیار شکر کیا۔
جہاز runway پر دوڑنے لگا۔ کھڑکی پر پڑے بارش کے قطرے تیزی سے پیچھے لکیریں بنتے بہنے لگے۔ پھر ایک لمحے میں زمین نیچے رہ گئی۔
میں کھڑکی سے باہر دیکھتی رہی۔
یہ وہی سوئٹزرلینڈ تھا جس میں آنے سے پہلے میرے ذہن میں برف، پہاڑ، جھیلیں اور فلموں کے منظر تھے۔ لیکن جاتے وقت میرے ساتھ صرف وہ منظر نہیں تھے۔ میرے ساتھ لوزرن کی خاموشی، ٹِٹلس کی ٹھنڈی ہوا، سوئس ٹرینوں کی کھڑکیاں، انٹرلاکن کے سبز میدان، رائن فال کی گڑگڑاہٹ، زیورخ اسٹیشن کے لاکر، چاکلیٹ فاؤنٹین اور وہ انجان اضافی رات بھی جا رہی تھی۔
شاید یہی فرق ہے سیاحت اور سفر میں۔ سیاح جگہوں کی تصاویر جمع کرتا ہے؛ سفر کرنے والا ان جگہوں سے چھوٹی چھوٹی کہانیاں اپنے ساتھ لے کر لوٹتا ہے۔
جہاز اوپر جا رہا تھا اور سوئٹزرلینڈ آہستہ آہستہ بادلوں کے نیچے چھپ رہا تھا۔ میں نے دل میں اس ملک سے پھر وہی وعدہ کیا:
”میں دوبارہ آؤں گی۔ اس بار تجھے دیکھنے آئی تھی، اگلی بار تجھے تھوڑا زیادہ محسوس کرنے کے لیے آؤں گی۔“
ہم آخرکار سوئٹزرلینڈ چھوڑ رہے تھے۔ سیاح آخرکار سیاح ہی ہوتا ہے؛ کتنی بھی خوبصورت جگہ سے دل لگ جائے، ایک دن اسے اپنا سامان اٹھا کر آگے بڑھنا پڑتا ہے۔
اور ہمارے سامنے پھر ہالینڈ تھا۔
لیکن اس بار ہالینڈ ہمارے لیے نیا ملک نہیں تھا۔ ہم وہاں پہلے بھی جا چکے تھے۔
پھر سوئٹزرلینڈ سے لوٹ کر پھر ہالینڈ کیوں گئے؟ وہ کہانی اگلی قسط میں۔