12 ستمبر 2024 · سفری کہانیاں

یورپ سفرنامہ — زیورخ جھیل پر ایک شام

سوئٹزرلینڈ

زیورخ جھیل پر فیری سفر، Swiss Half Fare Card، اور ترکی کی یادیں۔

یورپ سفرنامہ — زیورخ جھیل پر ایک شام

زیورخ کے بارے میں جب اب سوچتی ہوں تو ریلوے اسٹیشن، رائن فال اور چاکلیٹ کے علاوہ ایک اور تجربہ بھی یاد آتا ہے جو سفرنامے میں لکھنے سے رہ گیا تھا — Lake Zürich کا فیری والا سفر۔

سوئٹزرلینڈ آنے سے پہلے ہم نے Swiss Half Fare Card لیا تھا، اور اس کا فائدہ ہمیں نہ صرف ٹرینوں اور پہاڑوں کی طرف جانے والے سفروں میں ملا بلکہ اس boat cruise کی ٹکٹ لیتے وقت بھی۔ جب ٹکٹ لینے گئے تو Half Fare Card دکھانے پر ہمیں رعایتی ٹکٹ ملی۔ اس وقت مجھے پھر محسوس ہوا کہ سوئٹزرلینڈ جیسے مہنگے ملک میں اگر سفر سے پہلے تھوڑی planning کر لی جائے تو transport پر اچھی خاصی بچت ہو سکتی ہے۔ آج بھی Zürichsee کی عام scheduled boat services پر Half-Fare ticket موجود ہے۔

فیری میں چڑھ کر جیسے ہی بیٹھی تو اچانک ترکی کا سفر یاد آ گیا۔
میں نے زاہد سے کہا، ”یہ دیکھ کر مجھے ترکی والی ship یاد آ گئی۔"

ترکی میں Bursa جاتے ہوئے بھی ہم نے ایک بڑی ferry میں سفر کیا تھا، اور وہ سفر آج تک میری زندگی کے خوبصورت ترین سفروں میں سے ایک ہے۔ اس سے پہلے بھی ترکی میں میں اس سے بڑی ferry میں بیٹھی تھی جس میں نہ صرف مسافر بلکہ کاریں، وین اور دیگر گاڑیاں بھی ساتھ سفر کر رہی تھیں۔ اس وقت میرے لیے یہ خود ایک تجربہ تھا کہ ایک بڑا بحری جہاز لوگوں کے ساتھ ان کی گاڑیاں بھی لے کر پانی پر ایک کنارے سے دوسرے کنارے جا رہا ہے۔

فیری میں چڑھ کر بیٹھے تو زیورخ کا ایک بالکل مختلف چہرہ سامنے آنے لگا۔ شہر کی گلیوں میں چلتے ہوئے عمارتیں، ٹرامیں اور لوگوں کی رش نظر آتی ہے، مگر پانی پر نکلنے کے بعد وہی شہر اچانک خاموش اور پرسکون محسوس ہونے لگتا ہے۔

فیری آہستہ آہستہ آگے بڑھتی رہی۔ کناروں پر خوبصورت گھر، درخت، چھوٹی کشتیاں اور دور پہاڑوں کا سلسلہ نظر آرہا تھا۔ پانی اتنا پرسکون تھا کہ کچھ دیر کے لیے دل بھول ہی بیٹھا کہ ہم مسلسل کتنے ممالک کا سفر کر کے تھک گئے ہیں۔

میں کبھی تصاویر نکالوں، کبھی زاہد سے بات کروں، اور کبھی صرف خاموش بیٹھ کر پانی دیکھوں۔
میں نے زاہد سے کہا، "سوئٹزرلینڈ میں ایک بات تو ماننی پڑے گی — یہاں منزل سے زیادہ راستے خوبصورت ہیں۔"

ٹرین میں بیٹھو تو کھڑکی سے باہر منظر، کیبل کار میں بیٹھو تو نیچے پہاڑ، اور کشتی میں بیٹھو تو پانی کے بیچ سے شہر کا ایک نیا روپ۔
شاید اسی لیے سوئٹزرلینڈ کے بارے میں میں نے بار بار لکھا ہے کہ یہاں صرف مشہور tourist spots تک پہنچنا ہی سفر نہیں۔ یہاں ٹرین کی کھڑکی، جھیل کے کنارے بیٹھنا یا پانی پر چلتی ایک سادی کشتی بھی سفر کی یاد بن سکتی ہے۔

Lake Zürich پر چلنے والی کشتیوں کے مختلف route اور duration ہیں؛ آج بھی تقریباً ایک گھنٹے کی Mini Lake Cruise سے لے کر 1.5 گھنٹے کی Short Lake Cruise اور زیادہ لمبی cruise کے آپشن موجود ہیں۔ اس لیے زیورخ جانے والے اپنے وقت کے مطابق سفر چن سکتے ہیں۔

ٹھنڈی ہوا چل رہی تھی۔ Ship کا نچلا حصہ مکمل طور پر ڈھکا ہوا تھا، اس لیے کافی مسافر اندر آرام سے بیٹھے تھے، جبکہ بہت سے لوگ اوپر کھلی deck پر بیٹھ کر جھیل کے منظر دیکھ رہے تھے۔ ہم بھی شروع میں اوپر گئے۔ کھلے آسمان کے نیچے، ٹھنڈی ہوا میں Lake Zürich دیکھنے کا اپنا مزہ تھا، مگر کچھ دیر بعد سردی بڑھنے لگی تو ہم بھی نیچے آ کر بیٹھ گئے۔

نیچے کا ماحول بالکل مختلف تھا۔ گرم، آرام دہ جگہ، بڑی کھڑکیوں سے باہر جھیل کے منظر، اور لوگوں کے سامنے کھانا۔ کچھ لوگ کھا چکے تھے تو کچھ ابھی آرام سے بیٹھ کر کھا رہے تھے۔ انہیں دیکھ کر ہمیں بھی بھوک محسوس ہوئی اور سوچا کہ کیوں نہ کچھ order کیا جائے۔

مگر باہر کے ممالک میں menu کھولنا بھی کبھی کبھی خود ایک چھوٹا امتحان ہوتا ہے! کھانوں کے ایسے نام سامنے آتے ہیں جو زندگی میں کبھی سنے بھی نہ ہوں، اوپر سے قیمتیں دیکھ کر دل میں دوسرا سوال پیدا ہوتا ہے: "Order تو کریں، مگر اگر پسند ہی نہ آیا تو؟"

میں کافی دیر menu دیکھتی رہی، پھر زاہد سے کہا، "تجربہ آخر کس چیز کا نام ہے؟ Order کریں گے تب ہی تو پتہ چلے گا کہ کیا ہے اور ذائقہ کیسا ہے۔"

پھر ہم دونوں نے بڑے سوچ بچار کے بعد ایک dish چنی۔ نام پڑھ کر اندازہ لگانے کی کوشش کی کہ آخر اندر کیا ہوگا اور ذائقہ کیسا ہو سکتا ہے۔ جب کھانا ہمارے سامنے آیا تو پہلا لقمہ کھاتے ہی ہم نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا — ہمارا سارا سوچ بچار کامیاب ہو گیا تھا!

کھانا اتنا مزیدار نکلا کہ کھاتے دل خوش ہو گیا۔ کبھی کبھی انجان چیز کے بارے میں ذہن میں بے جا شک ہوتا ہے، مگر جب اسے آزمایا جائے تو وہی تجربہ سفر کی خوبصورت یاد بن جاتا ہے۔

کھانا ختم ہوا تو دل نے کہا، "ایک اور بھی order کریں!" مگر اتنی دیر میں ship اپنے کنارے کے قریب پہنچ رہی تھی۔ سو دوسرا order رہ گیا۔

ہمارے پاس وقت محدود تھا، اس لیے ہمارے لیے مقصد کسی منزل تک پہنچنا نہیں تھا۔ اصل مزہ تو کشتی میں بیٹھ کر شہر کو پانی سے دیکھنے کا تھا۔

اور شاید سفر کی کچھ خوبصورت گھڑیوں کی خاص بات بھی یہی ہوتی ہے — ان کی کوئی منزل نہیں ہوتی۔
آپ صرف چلتے رہتے ہیں، سامنے منظر بدلتے رہتے ہیں، اور دل کہتا ہے:
"تھوڑا آہستہ چلو.. یہ وقت ابھی ختم نہ ہو۔"